Skip to main content

نکاح اور اس میں موجود کالمز کی تفصیل و اہمیت | Nikah with the details and importance in Pakistan Law






*نکاح اور اس میں موجود کالمز کی تفصیل و اہمیت*
نکاح ایک سماجی معاہدہ ہے۔ جو فریقین کے درمیان ایجاب وقبول کے عمل سے مکمل ہو جاتا ہے۔ نکاح نامہ ایک قانونی دستاویز ہے۔ اس کے ذریعے حقوق و فرائض کا تعین ہوتا ہے۔
اکثر لوگ نکاح نامہ کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں اس لیے ضروری ہے کہ نکاح نامہ کی ضرورت کا احساس دلایا جائے کیوں کے عورت کو مذہب اورقانون نے اپنے مستقبل کے بارے میں جن تحفظات کویقینی بنانے کی اجازت دے رکھی ہے
وہ نکاح نامہ کے کالم صحیح کرنے سے ہی ممکن ہے۔ اس لئے نکاح نامہ کے کالم انتہائی احتیاط سے پر کرنے کی ضرورت ہے۔
*عام معلومات ( کالم 1 تا 12)*
ان کالموں میں دولہا٬ دولہن کا نام ولدیت٬ ضلع٬ عمر٬ یونین کونسل٬ فریقین کی طرف سے وکیل٬ گواہ٬ شادی کی تاریخ اور یہ کی دلہن کنواری٬ بیوہ یا مطلقہ ہے درج کرنا ہوتا ہے
*حق مہر (کالم 13تا16)*
حق مہر کا نکاح نامہ میں اندراج ضروری ہے۔ جو عورت کا مذہبی اور قانونی حق ہے۔ ارشادات رسول اور عمل رسول کا خلاصہ ہے کہ جو حق مہر شوہر آسانی کے ساتھ ادا کرسکے اور بیوی بھی اس پر راضی ہو وہ شرعی حق مہر ہے ۔
نکاح کے کالم نمبر 14 میں اسکی نوعیت لکھی جاتی ہے کہ وہ معجل ہے یا مؤجل۔
اس طرح اگر مہر کا کچھ حصہ شادی کے موقع پر ادا کیا گیا ہو تو کالم نمبر 15 میں اس کی مقدار درج کی جاتی ہے۔
اگر حق مہر کے عوض کوئی جائیداد وغیرہ دی گئی ہو تو کالم نمبر 16میں اس کی مکمل تفصیل اس کے آگے اور پیچھے کیا ہے۔ اور اس وقت اس کی قیمت کیا ہے درج کی جاتی ہے۔ تاکہ بعد میں دھوکا نہ ہو۔
*خاص شرائط ( کالم نمبر 17)*
کالم نمبر 17 خاص شرائط سے متعلق ہے جس کی خاص اہمیت ہے اس میں ناچاقی کی صورت میں نان و نفقہ کس طرح ادا ہوگا
اور رہائش کے بارے میں بھی لکھا جا سکتا ہے کہ شادی کے بعد دیہات میں رہائش ہو گی یا شہر میں اور شادی کے بعد تعلیم یا ملازمت جاری رکھنے کی اجازت ہوگی یا نہیں وغیرہ اس میں درج کی جاتی ہیں۔
اس شق میں جہیز کی تفصیل بھی درج کی جاسکتی ہے۔
*طلاق تفویض (کالم نمبر 18)*
اس شق میں عورت مرد سے طلاق کا حق مانگ سکتی ہے اور اگر شوہر نے بیوی کو طلاق کا حق دے دیا ہے اور اس بارے میں کوئی شرائط مقرر کی ہیں تو وہ بھی اس خانہ میں درج کی جائیں گی۔
اور عورت جب چاہے مقررہ شرائط کو پورا کر کے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو شوہر کی زوجیت سے آزاد کر سکتی ہے۔
عورت کو اس کا نوٹس چیئرمین ثالثی کونسل کو دینا ضروری ہے کے اس نے طلاق تفویض کا حق استعمال کیا ہے۔
*شوہر کے حق طلاق پر پابندی( کالم نمبر 19)*
اس کالم میں شوہر کے حق کے طلاق پر شرائط مقرر مقرر کی جاتی ہیں۔ مثلا حق مہر کی فوری ادائیگی اور بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری ماں کی ہوگی وغیرہ
*حق مہر اور نان و نفقہ کی دستاویز کا اندراج (کالم نمبر 20)*
اگر شادی کے موقع پر حق مہر اور نان و نفقہ کے بارے میں کوئی دستاویز تیار کی گئی ہو تو اس کا اندراج کالم نمبر 20 میں کیا جاتا ہے
*دوسری شادی کیلئے اجازت نامہ( کالم نمبر 21٬22)*
دوسری شادی کی صورت میں عائلی قوانین کے تحت پہلی بیوی اور چیئرمین ثالثی کونسل کا اجازت نامہ لینا ضروری ہے
اور دوسری شادی کی صورت میں بوقت نکاح کالم نمبر21 کو ضروری پر کرنا چاہیے اس میں دوسری شادی کی اجازت ملنے کی تاریخ درج کرنی ہوتی ہے۔
نکاح نامہ کو نکاح رجسٹرار مکمل کرکے یونین کونسل میں رجسٹرڈ کرواتا ہے.

Comments

Popular posts from this blog

Judgements of Supreme Court of Pakistan 2022

سپریم کورٹ کے تمام ججمنٹ جس کے تحت قید ملزمان کے اپیل منظور ہوکر بری ہوئے ہیں کہ استغاثہ/پولیس منشیات مقدمات میں موقع پر نموناجات تیار کرنا،نموناجات اور مال مقدمہ محفوظ تحویل میں پولیس سٹیشن تک پہنچنا اور پھر پولیس سٹیشن سے لیبارٹری تک پہنچنا کو زبانی طور پر، دستاویزات طور پر ،تحریری طور زنجیر کے چین ہر کڑی کو ثابت کرنے میں ناکام ہو ئے ہیں اور زنجیر کے اس چین کے کڑیوں میں شک پیدا ہو جس سے شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے Safe custody of samples and their transmission to the Chemical Examiner--- Significance in Narcotic Cases. Judgements of Supreme Court of Pakistan 2022 SCMR 1052 Safe custody and safe transmission of samples to the Forensic Science Laboratory not established---Benefit of doubt---Prosecution had failed to establish the safe custody of sample parcels in the Malkhana as the Moharar Malknana was not produced---Police official who allegedly transmitted the sample parcels to the concerned laboratory, was also not produced, hence prosecution failed to prove safe trans...

SM Legal Help - Commissioner Oath and Public Notary

  نوٹری پبلک اور اوتھ کمشنر میں کیا فرق ہے اور اسکی قانونی حیثیت کیا ہے ری پبلک اور اوتھ کمشنر بنیادی طور پر سرکار کی طرف سے متعین کردہ افراد ہوتے ہیں جو روزمرہ معاملات میں عدالتوں میں پیش کیے جانے والے کاغذات کی تصدیق کرتے ہیں جس سے عدالتی وقت بچتا ہے۔ نوٹری پبلک اور اوتھ کمشنر دو علیحدہ علیحدہ عہدے ہیں اور دونوں کے الگ الگ قانون ہیں جو کہ تقسیم ہند سے پہلے کے موجود ہیں۔ چونکہ پاکستان کا نظام قانون برطانوی قانون سے اخذ کیا گیا ہے اس لیے بہت سے قوانین ابھی بھی ویسے ہی ہیں جو برطانوی راج کے دور میں نافذ کیے گیے تھے۔ نوٹری پبلک ایکٹ کے تحت کوئی بھی وکیل نوٹری پبلک بننے کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو درخواست دیتا ہے اور اس کے انٹرویو کے بعد تین سال کے لیے اسے نوٹری پبلک بنا دیا جاتا ہے۔ اور تین سال کے بعد اسے اس لائسنس کی تجدید کروانا ہوتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس اوتھ کمشنر ایکٹ کے تحت صوبے کی ہائی کورٹ خواہش مند وکلا کو اوتھ کمشنر کا لائسنس جاری کرتی ہے اور ان کا کام کسی بھی حلف نامے کو سٹامپ پیپر پر درج کر کے گواہ کے طور پر اپنا نام لکھنا ہوتا ہے کہ ان کے روبرو اس شخص نے گواہی دی ہے۔ پاکس...

TYPES OF REMAND

  ریمانڈ کے لفظی معنی ”واپس بھجوانا“ ہے۔ یعنی مجسٹریٹ کی عدالت سے مقدمہ میں نامزد پیش کردہ ملزم کو واپس حوالات بھیجنا. اصل میں پولیس کے تشدد کی وجہ سے یہ اصطلاح بہت خطر ناک سمجھی جاتی ہےجو کافی حد تک صحیح ہے۔ جب کوئی شخص کسی بھی جرم میں گرفتار ہوتا ہے تو پولیس اس کو چوبیس گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے پاس پیش کرنے کی پابند ہوتی ہے اور مزید عرصے کے لئے زیر حراست رکھنا مطلوب ہو تو پولیس مجسٹریٹ سے تحریری حکم حاصل کرتی ہے اس درخواست کو ریمانڈ کی درخواست کہتے ہیں۔ اگر پولیس24 گھنٹے کے اندر ملزم کو عدالت میں پیش نہیں کرتی اور مزید مناسب حکم حاصل نہیں کرتی تو چوبیس گھنٹے سے بعد کی حراست غیر قانونی شمار ہوگی۔ عام طور پر ریمانڈ کی درخواست علاقہ مجسٹریٹ کو دی جاتی ہے تاہم ناگزیر صورت میں ریمانڈ کی درخواست کسی بھی مقامی مجسٹریٹ کو دی جا سکتی ہے۔ مجسٹریٹ جس کے روبرو کسی ملزم کو بغرض ریمانڈ پیش کیا جائے زیادہ سے زیادہ پندرہ دن کا ریمانڈ دیتا ہے۔ ہائی کورٹ رولز میں بھی ریمانڈ کے متعلق احکامات اور ہدایات دی گئی ہیں۔ ریمانڈ کی درخواستوں میں قانون یہ ہے کہ مجسٹریٹ کو ملزم کے وکیل یا اسکے رشتہ داروں کو ...