Skip to main content

SM Legal Help - Commissioner Oath and Public Notary

 



نوٹری پبلک اور اوتھ کمشنر میں کیا فرق ہے اور اسکی قانونی حیثیت کیا ہے

ری پبلک اور اوتھ کمشنر بنیادی طور پر سرکار کی طرف سے متعین کردہ افراد ہوتے ہیں جو روزمرہ معاملات میں عدالتوں میں پیش کیے جانے والے کاغذات کی تصدیق کرتے ہیں جس سے عدالتی وقت بچتا ہے۔ نوٹری پبلک اور اوتھ کمشنر دو علیحدہ علیحدہ عہدے ہیں اور دونوں کے الگ الگ قانون ہیں جو کہ تقسیم ہند سے پہلے کے موجود ہیں۔ چونکہ پاکستان کا نظام قانون برطانوی قانون سے اخذ کیا گیا ہے اس لیے بہت سے قوانین ابھی بھی ویسے ہی ہیں جو برطانوی راج کے دور میں نافذ کیے گیے تھے۔ نوٹری پبلک ایکٹ کے تحت کوئی بھی وکیل نوٹری پبلک بننے کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو درخواست دیتا ہے اور اس کے انٹرویو کے بعد تین سال کے لیے اسے نوٹری پبلک بنا دیا جاتا ہے۔ اور تین سال کے بعد اسے اس لائسنس کی تجدید کروانا ہوتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس اوتھ کمشنر ایکٹ کے تحت صوبے کی ہائی کورٹ خواہش مند وکلا کو اوتھ کمشنر کا لائسنس جاری کرتی ہے اور ان کا کام کسی بھی حلف نامے کو سٹامپ پیپر پر درج کر کے گواہ کے طور پر اپنا نام لکھنا ہوتا ہے کہ ان کے روبرو اس شخص نے گواہی دی ہے۔

پاکستان اور برطانیہ کے عدالتی قوانین کے تحت کوئی بھی حلف نامہ یا ڈاکیومنٹ نوٹری پبلک یا اوتھ کمشنر کی تصدیق کے بغیر عدالت میں جمع نہیں کروایا جا سکتا۔ اوتھ کمشنر صرف حلف نامے کی عبارت کی تصدیق کرتا ہے جبکہ نوٹری پبلک کے پاس حلف ناموں کے علاوہ دیگر کاغذات کو بھی تصدیق کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔

اس طرح کے حلف کی قانونی حیثیت کیا ہوتی ہے؟

یہ ایک قانونی دستاویز ہوتی ہے۔ جیسے آپ ویسے ہی کوئی بات کر دیں اور وہی بات آپ ایک سٹامپ پیپر پر لکھ کر ایک اوتھ کمشنر کے روبرو حلف دے کر سامنے لائیں تو دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ تصدیق شدہ حلف کل کلاں غلط ثابت ہوتا ہے تو آپ کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے کہ عدالت سے غلط بیانی کی گئی۔ آپ نے ایک دفعہ تصدیق شدہ حلف نامہ جمع کروا دیا تو پھر آپ کے پاس اس سے مکرنے کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔

اوتھ کمشنر اور نوٹری پبلک کا کام دستاویزات کو ’صرف عدالت میں پیش کرنے کے قابل‘ بنانا ہوتا ہے۔ اس میں لکھے گئے مواد کا ذمہ دار صرف اور صرف ایسے مواد کو پیش کرنے والا ہی ہوتا ہے۔ ’اس میں ایک بات اور بھی واضح ہونی چاہیے کہ تصدیق شدہ حلف نامے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کی بات سچ ثابت ہو گئی ہے۔ بلکہ یہ جانچ کرنی عدالت کا کام ہوتا ہے۔ بس یہ ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے آپ اپنی بات عدالت کے سامنے رکھ سکتے ہیں جب بھی آپ اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔‘

سٹامپ پر لکھا گیا حلف نامہ ایک شہادت کے طور پر عدالت میں جمع کروایا جاتا ہے۔ اور چونکہ وہ ایک سرکاری شخص کے سامنے باقاعدہ حلف دے کر پایۂ تکمیل تک پہنچتا ہے لہٰذا عدالت میں پیش ہونے کی حد تک یہ ایک قانونی دستاویز ہوتی ہے۔ لیکن اس کے مندرجات کے درست یا غلط ہونے کا تعین عدالت میں ہی ہوتا ہے



51h0tm
g65

Comments

Popular posts from this blog

Judgements of Supreme Court of Pakistan 2022

سپریم کورٹ کے تمام ججمنٹ جس کے تحت قید ملزمان کے اپیل منظور ہوکر بری ہوئے ہیں کہ استغاثہ/پولیس منشیات مقدمات میں موقع پر نموناجات تیار کرنا،نموناجات اور مال مقدمہ محفوظ تحویل میں پولیس سٹیشن تک پہنچنا اور پھر پولیس سٹیشن سے لیبارٹری تک پہنچنا کو زبانی طور پر، دستاویزات طور پر ،تحریری طور زنجیر کے چین ہر کڑی کو ثابت کرنے میں ناکام ہو ئے ہیں اور زنجیر کے اس چین کے کڑیوں میں شک پیدا ہو جس سے شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے Safe custody of samples and their transmission to the Chemical Examiner--- Significance in Narcotic Cases. Judgements of Supreme Court of Pakistan 2022 SCMR 1052 Safe custody and safe transmission of samples to the Forensic Science Laboratory not established---Benefit of doubt---Prosecution had failed to establish the safe custody of sample parcels in the Malkhana as the Moharar Malknana was not produced---Police official who allegedly transmitted the sample parcels to the concerned laboratory, was also not produced, hence prosecution failed to prove safe trans...

TYPES OF REMAND

  ریمانڈ کے لفظی معنی ”واپس بھجوانا“ ہے۔ یعنی مجسٹریٹ کی عدالت سے مقدمہ میں نامزد پیش کردہ ملزم کو واپس حوالات بھیجنا. اصل میں پولیس کے تشدد کی وجہ سے یہ اصطلاح بہت خطر ناک سمجھی جاتی ہےجو کافی حد تک صحیح ہے۔ جب کوئی شخص کسی بھی جرم میں گرفتار ہوتا ہے تو پولیس اس کو چوبیس گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے پاس پیش کرنے کی پابند ہوتی ہے اور مزید عرصے کے لئے زیر حراست رکھنا مطلوب ہو تو پولیس مجسٹریٹ سے تحریری حکم حاصل کرتی ہے اس درخواست کو ریمانڈ کی درخواست کہتے ہیں۔ اگر پولیس24 گھنٹے کے اندر ملزم کو عدالت میں پیش نہیں کرتی اور مزید مناسب حکم حاصل نہیں کرتی تو چوبیس گھنٹے سے بعد کی حراست غیر قانونی شمار ہوگی۔ عام طور پر ریمانڈ کی درخواست علاقہ مجسٹریٹ کو دی جاتی ہے تاہم ناگزیر صورت میں ریمانڈ کی درخواست کسی بھی مقامی مجسٹریٹ کو دی جا سکتی ہے۔ مجسٹریٹ جس کے روبرو کسی ملزم کو بغرض ریمانڈ پیش کیا جائے زیادہ سے زیادہ پندرہ دن کا ریمانڈ دیتا ہے۔ ہائی کورٹ رولز میں بھی ریمانڈ کے متعلق احکامات اور ہدایات دی گئی ہیں۔ ریمانڈ کی درخواستوں میں قانون یہ ہے کہ مجسٹریٹ کو ملزم کے وکیل یا اسکے رشتہ داروں کو ...